منگلورو 6؍مارچ (ایس او نیوز)ریاستی وزیر داخلہ رام لنگا ریڈی نے آر ایس ایس پر نشانہ سادھتے وقت پی ایف آئی اور ایس ڈی پی آئی کو بھی ایک ساتھ لپیٹتے ہوئے ان تینوں تنظیموں کو ’دہشت گردوں کی فیکٹریاں‘ قرار دیا ہے۔
میڈیا کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے رام لنگا ریڈی نے کہا کہ :’’جنوبی کینرا ضلع میں سنگھ پریوار ، ایس ڈی پی آئی اور پی ایف آئی جیسی دونوں تنظیموں کی دہشت گردوں کی فیکٹریوں کو ہم نے بند کروادیا ہے۔‘‘ وزیر داخلہ نے سوال کیاکہ: ’’بی جے پی کی جانب سے پی ایف آئی اور ایس ڈی پی آئی پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے،لیکن خودجب بی جے پی والوں کی حکومت تھی تو ان کی طرف سے پابندی لگائی جاسکتی تھی پھر بھی انہوں نے پابندی کیوں نہیں لگائی ؟‘‘
وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ’’ ضلع میں رونماہونے والے کئی ایک معاملات میں ہندوؤں نے ہی ایک دوسرے کو مارڈالا ہے۔بی جے پی کارکنان کی اموات کے لئے بھی الگ الگ وجوہات رہی ہیں۔لیکن مرنے والے تمام افراد کو بی جے پی کارکنان بتاکر فہرست جاری کرتے ہوئے سرکھشا ریالی نکالی گئی ہے ۔ہوناور کے پریش میستا معاملے کی تحقیقات سی بی آئی کو سونپنے کے باوجود شکایت کی جارہی ہے کہ وزیر اعلیٰ نے قاتلوں کو پکڑنے کے لئے کچھ نہیں کیا۔سری رام سینا، بجرنگ دل وشواہندوپریشد وغیرہ نے یہاں پر 11افراد کو قتل کیا ہے۔ اور اب قاتلوں کی حمایت میں بولنے کے لئے اتر پردیش کے وزیراعلیٰ آدتیہ ناتھ کو مدعو کیاگیا ہے۔‘‘
گوری لنکیش کے قاتلوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ تحقیقات آگے بڑھ رہی ہیں اس لئے اس پر فی الحال کوئی تبصرہ نہیں کیا جاسکتا۔ گؤ کشی کے مسئلے پر وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ مرکز میں بی جے پی کی حکومت ہے، وہ بیف کی بر آمد پر پہلے پابندی لگائے اس کے بعد گؤ کشی پرپابندی والا قانون جاری کرے۔ اتر پردیش میں بیف کی بڑی بڑی فیکٹریاں چل رہی ہیں۔ گؤ کشی کی طرح ہر قسم کے جانور کے کاٹنے پر پابندی لگنی چاہیے۔جانوروں کو کاٹنے پر لگنے والی پابندی کو ہماری حمایت رہے گی۔اگران لوگوں کو گائے سے اتنی ہی عقیدت ہے تو پھر ان کو چاہیے کہ پہلے بیف کی برآمد پر پابندی لگائیں۔‘‘
نکسلیوں کے بارے میں کہا کہ ان کی سرگرمیوں پرروک لگی ہے۔ اب کہیں بھی نکسلیوں کے کیمپ موجود نہیں ہیں، پھربھی ہر طرح کی چوکسی برتی جارہی ہے۔